19 جولائی 2026 - 17:33
آسٹریلیا نے اسلاموفوبیا کے مقابلے کے لیے 42 ملین ڈالر کے قومی منصوبے کا اعلان کر دیا

آسٹریلوی حکومت نے ملک میں اسلام مخالف رجحانات کو روکنے اور مسلم برادریوں کے تحفظ کے لیے 42 ملین ڈالر مالیت کے قومی منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام اسلاموفوبیا کے خلاف خصوصی نمائندے کی رپورٹ کے جواب میں پیش کیا گیا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، آسٹریلوی حکومت نے "اسلاموفوبیا کے مقابلے کے لیے قومی عملی منصوبہ" متعارف کرایا ہے، جسے ملک میں اسلام مخالف رویوں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سرکاری اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔

آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانیز نے اس منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد ملک میں اسلام مخالف جذبات کے پھیلاؤ کی روک تھام اور مسلم برادریوں کی حمایت کرنا ہے۔

اس منصوبے کے تحت تقریباً 42 ملین ڈالر مختص کیے جائیں گے، جنہیں مختلف اقدامات پر خرچ کیا جائے گا۔ ان اقدامات میں عبادت گاہوں کے لیے حفاظتی انتظامات کو مضبوط بنانا، مسلم برادریوں خصوصاً خواتین اور نوجوانوں کی حمایت اور اسلاموفوبیا سے نمٹنے کے لیے تعلیمی نظام میں خصوصی اقدامات شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، تعلیمی اداروں میں اسلاموفوبیا کے خلاف ایک خصوصی ورکنگ گروپ تشکیل دیا جائے گا، جبکہ قومی نصاب میں بھی تبدیلیاں کی جائیں گی تاکہ مذہبی اور نسلی برداشت کو فروغ دیا جا سکے۔

اس منصوبے کے تحت آسٹریلوی وفاقی پولیس کمیونٹی رابطہ افسران کی تعداد میں اضافہ کرے گی اور نفرت انگیز واقعات کی رپورٹنگ کو آسان بنانے کے لیے ایک خصوصی رابطہ نظام قائم کیا جائے گا۔

اس سے قبل ممنوعہ نفرت انگیز گروہوں کی رکنیت پر فوجداری سزاؤں کا قانون بھی نافذ کیا گیا تھا، جبکہ اب یونیورسٹیوں کو بھی اسلاموفوبیا کے واقعات کی روک تھام اور ان پر ردعمل دینے کا پابند بنایا جائے گا۔

تاہم آسٹریلوی حکومت نے اسلاموفوبیا کے خلاف خصوصی نمائندے کی تمام سفارشات کو قبول نہیں کیا۔ حکومت نے انسداد دہشت گردی قوانین پر نظرثانی اور فلسطینی و عرب مخالف نسل پرستی کے جائزے کے لیے خصوصی کمیشن قائم کرنے کی تجاویز مسترد کر دی ہیں۔

آسٹریلیا کے وزیر داخلہ ٹونی برک نے اسلاموفوبیا کو ایک گہری جڑوں والا اور کم رپورٹ ہونے والا مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے اثرات مسلم برادری کے لیے نقصان دہ ہیں۔

اسی طرح کثیر الثقافتی امور کی وزیر ان الی، جو آسٹریلیا کی پارلیمنٹ کی پہلی مسلم رکن بھی ہیں، نے کہا کہ حکومت نے پہلی بار باضابطہ طور پر اسلاموفوبیا کو ایک ساختی مسئلے کے طور پر تسلیم کیا ہے۔

آسٹریلوی حکام کے مطابق مذہبی اور نسلی نفرت کے خلاف اقدامات اور سماجی ہم آہنگی کا فروغ حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha